ابنا: راولپنڈی میں عاشور کے روز امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن راولپنڈی ڈویژن کے زیراہتمام نماز ظہرین کا اہتمام کیا گیا, جس میں ہزاروں سوگواران کربلا نے شرکت کی اور نماز پڑھی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ کربلا سے حریت کا درس ملتا ہے، عاشور ہمیں یزیدیت سے نبردآزما ہونے اور یزید وقت کے خلاف قیام کرنے کا سبق دیتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت پاکستان میں عالمی سامراج حالات خراب کر رہا ہے اور نیٹو حملے اس سلسلہ کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج پوری غیرت کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کرے تو اٹھارہ کروڑ عوام اُن کی پشت پر ہو گی اور امریکہ کا سر ہو گا اور ہمارے فوجی کے جوتے ہونگے، ورنہ یہ لاشیں بھی اٹھاتے رہیں گے اور ذلت سے بھی دوچار ہوں گے۔
علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو چاہیے وہ فقط اقتدار کو طول دینے کی بجائے پاکستان میں امن وامان کو بحال کرنے اور وطن عزیز سے عالمی سامراج کے ناپاک وجود کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ اسلام نے اپنا گھر قربان کر دیا مگر اسلام پر حرف نہ آنے دیا، امام حسین ع نے ولید کے دربار میں یہ کہہ کر قیامت تک یزیدیت کے منہ سے نقاب الٹ دی کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا، دور حاضر کا یزید امریکہ ہے، جس نے پوری دنیا میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
آج فلسطین، افغانستان، کشمیر اور عراق میں ناحق قتل عام جاری ہے لیکن عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں چپ ہیں، علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مغرب کے دہرے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران میں محض چند سو طلباء نے برطانیہ کے سفارتخانے پر قبضہ کیا تو آسمان سر پر اٹھا لیا گیا، مگر نیٹو فورسز نے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چوبیس پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ انہوں نے ضلع جھنگ میں عزاداروں پر ہونے والی فائرنگ کی شدید مذمت کی اور حکومت سے کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور شرپسند عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھنگ کے واقعہ میں رانا ثناء اللہ کا براہ راست ہاتھ ملوث ہے۔
........
/169